کبھی کبھی ہم کسی چیز کو ضرورت سمجھ کر شروع کرتے ہیں…اور آہستہ آہستہ وہ ہماری عادت بن جاتی ہے، پھر عادت سے بڑھ کر ایک نشہ کی شکل اختیار کرجاتی ہے اور خطرناک بات یہ ہے کہ ہمیں خود بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہم کب ضرورت سے نکل کر خواہش اور نشے کے حدودمیں داخل ہو گئے۔
میں کئی سالوں سے ونڈوز اور اینڈرائیڈ یوزر رہا ہوں۔ایک سال پہلے ٹیم نے کہا کہ سفر کے دوران ہر جگہ کیمرہ نکالنا آسان نہیں ہوتا، اس لیے ایک آئی فون ہونا چاہیے تاکہ فوراً تصویر لے کر ایڈیٹ کرکے اپلوڈ کیا جا سکے۔بات معقول لگی، میں نے خرید کر دے دیا۔چند ماہ بعد وہ فون میرے پاس آ گیا… کیونکہ کسی بھی طرف نکلنا تو کیمرے کے آسانی کے لیے ساتھ لے لینا۔
پھر سم بھی اسی میں ڈال دی…اور یوں ایک کی بجائے جیب میں دو موبائل آ گئے اور پھر کبھی ایک موبائل وقت برباد کرتا تھا اب 2 ہوگئے جینا حرام کرنے کے لیے۔
اینڈرائیڈ میرے لیے ضروری تھا کیونکہ اس میں ایک ساتھ کئی واٹس ایپ چل سکتے ہیں، جس سے میں اپنے مختلف پلیٹ فارمز کاکے واٹس ایپس پہ خود بھی نظر رکھ پاتا ہوں جوکہ ضروری ہوتا ہے ۔آئی فون میں یہ سہولت نہیں تھی…تو دونوں ساتھ رکھنے پڑے۔
پھر آہستہ آہستہ آئی فون کے UI کا مزہ آنا شروع ہوااور یہی وہ جگہ تھی جہاں ضرورت نے shape بدلنی شروع کی۔
سوچا، اگر آئی فون اور ائی پیڈ تو ہے ہی ، چلو میک بک بھی لے لیتے ہیں…اور پھر تقریباً 3 لاکھ کی میک بک آ گئی۔
پھر خیال آیا کہ ایپل واچ بھی ہونی چاہیےکیونکہ ecosystem مکمل ہونا چاہیے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم پھنس جاتے ہیں، ایک چیز لیتے ہیں ضرورت کے لیےاور پھر پورا system خرید لیتے ہیں feel کے لیے۔لیکن حقیقت یہ ہےہر اچھی چیز، ہر انسان کے لیے ضروری نہیں ہوتی۔
جب دیکھا کہ
• میک بک استعمال ہو ہی نہیں رہا
• ونڈوز کا عادی ہونے کی وجہ سے fluency نہیں بن رہی
• دو موبائل رکھنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ، الٹا وقت برباد ہورہا ہے اور اضافی جیبوں کی ضرورت محسوس ہورہی ہے
ایک ماہ پہلےتھوڑا سا بیٹھ کےسوچھا تو کنفرم ہوا کہ یہ غلط چل رہا ہے ۔
بس پھر میک بک بیچ دی،آئی فون سے سم نکال لی اورایک مضبوط اور مکمل اینڈرائیڈ فون لینے کا فیصلہ کیا
چھوٹے بھائی حمزہ سے کہا جو موبائل فیلڈ میں ہے کہ ایسا فون چاہیے جو کچھ سال سکون سے چلے، کیمرہ بھی اچھا ہو اور کام بھی smooth کرے۔
اس نے مشورہ دیا Samsung S سیریز کا۔کچھ دن مختلف موبائلز کے فیچر چیک کیے اور آخرکار Samsung S25 Ultra لے لیا۔
سم ڈالی… اور زندگی پرسکون ہوگئی۔
اس پورے تجربے کے بعد ایک بات کلئیر ہوئی کہ ایپل صرف ایک ڈیوائس نہیں… ایک experience ہے۔
اور یہی ایکسپیرینس آہستہ آہستہ ایک نشہ بن جاتا ہے اور سچ یہ ہےکہ
نشہ جتنا مہنگا ہو… اتنا ہی خطرناک ہوتا ہے۔ایسانہیں کہ ایپل خراب ہے ہرگز نہیں۔چیزیں بہترین ہیں، UI بہترین ہے، پرفارمنس بھی strong ہے۔
لیکن سوال یہ ہےکیا وہ آپ کے لیے ضروری بھی ہے؟
اب یہ نہ کہنا کہ اُس سے انسان امیر لگتا ہے۔ کیونگے لگنے والے کاموں سے زیادہ ضروری ہونا ہوتا ہے،
آپ کچھ لگ رہے ہو یہ اتنااہم اور اچھا نہیں جتنا اچھا یہ ہے کہ آپ اہم ہو، اور وہ ان چیزوں سے آپ نہیں بنتے۔ بہت بڑے بڑے لوگ اب بھی ایسے ہیں جن کے پاس بٹنوں والا سادہ موبائل ہیں ۔
اگر آپ کا کام ونڈوز اور اینڈرائیڈ پر بہتر ہو رہا ہے…تو صرف فیلنگ کے لیے خود کو نئے سسٹم میں ڈالنا اکثر ایک اضافی ٹینشن پیدا کرتا ہے۔
کیونکہ ہر نیا system سیکھنا وقت لیتا ہے، ہر ecosystem اپنی پابندیاں لاتا ہے اور ہر فیصلہ ایک خاموش خرچوں کا بیگ ساتھ رکھتا ہے
یہ کہانی Apple vs Android کی نہیں ہے…
یہ clarity vs confusion کی ہے۔
آپ جو بھی استعمال کریں لیکن یہ ضرور دیکھیں کہ کیا یہ واقعی آپ کی ترقی کے لیے ہے؟
یا صرف ایک وقتی attraction ہے؟
کیونکہ ہر مہنگی چیز قیمتی نہیں ہوتی اور ہر سادہ چیز کمزور اور بے معنی نہیں ہوتی۔
آپ کا اس حوالے سے تجربہ کیا رہا ہے بتائیے گا۔
اعجاز اللہ خان
۔
۔
۔
#techchoices #mindset #smartdecisions #productivity #digitalminimalism #focus #growththinking #businessmindset #clarity #simpleliving
#فیصلہ #سادگی #ترقی #ذہنیت #ٹیکنالوجی