زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جہاں انسان کے پاس الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔ انسان کے اندر ایک عجیب سا شور برپا ہوتا ہے۔ کبھی رزق کی فکر، کبھی مستقبل کا خوف، کبھی ذمہ داریوں کا دباؤ، کبھی مسلسل ناکامیوں کی تھکن۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں انسان اکثر لوگوں سے زیادہ اپنے ہی دماغ سے ہارنے لگتا ہے۔ سوچیں بڑھنے لگتی ہیں۔ دل بے چین رہنے لگتا ہے۔ اور انسان ہر وقت کسی نہ کسی ذہنی دباؤ میں رہتا ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں ایک بات محسوس کی:
انسان صرف جسمانی کام سے نہیں تھکتا… بلکہ مسلسل ذہنی دباؤ انسان کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ خاص طور پر تب، جب انسان کچھ بڑا بنانے کی کوشش کر رہا ہو۔ جب ذمہ داریاں بڑھ رہی ہوں۔ جب فیصلے مشکل ہوں۔ اور جب ہر دن نئے Challenges سامنے آ رہے ہوں۔
ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے احساس ہوا کہ اگر انسان صرف دوڑتا رہے، لیکن اپنے دل اور دماغ کو سنبھالنے کا طریقہ نہ سیکھے، تو وہ باہر سے کامیاب اور اندر سے خالی ہو سکتا ہے۔ اسی جدوجہد میں مجھے دو چیزوں نے بہت سہارا دیا:
پہلی چیز… Organization یعنی مینجمنٹ اور دوسری چیز… دعا
میں نے اپنے کاموں کو منظم کرنا شروع کیا۔ جس کا ذکر میں گزشت کالم میں تفصیل سے کرچکا ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان چاہے جتنا منظم ہو جائے، زندگی میں کچھ معاملات ایسے ضرور آتے ہیں جو انسان کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔
وہاں پھر صرف Planning کافی نہیں رہتی… وہاں انسان کو اللہ کی طرف پلٹنا پڑتا ہے ، جس سے وہ بسا اوقات بلکل غافل ہوچکا ہوتا ہے، حالانکہ یہ دروازہ تو سب سے پہلا ہونا چاہیے لیکن بسا اوقات ہماری مصروفیت اسے دوسرا یا اس سے بھی آگے لے جاتی ہے۔
قرآن و حدیث میں کئی ایسی دعائیں موجود ہیں جو مکمل انسانی کیفیتوں کی ترجمانی ہیں۔ ایسی دعائیں جو خوف کے وقت بھی پڑھی گئیں، تنہائی میں بھی، ناکامی کے بعد بھی، اور شدید آزمائشوں میں بھی۔
مثلاً:
"حسبنا الله و نعم الوکیل"
یہ صرف ایک جملہ نہیں۔ یہ وہ یقین ہے جو حضرت ابراہیمؑ نے آگ کے سامنے کھڑے ہو کر اختیار کیا تھا۔
یعنی: اللہ میرے لیے کافی ہے۔
آج کے دور میں انسان کو شاید آگ میں نہ پھینکا جائے، لیکن حالات، دباؤ، قرض، ذمہ داریاں، اور ذہنی پریشانیاں کئی لوگوں کو اندر ہی اندر جلا رہی ہوتی ہیں۔
ایسے وقت میں یہ دعا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ ہر چیز صرف ہمارے کندھوں پر نہیں۔یہ سب کچھ ہمارے رب کے اختیار میں ہے ، وہ ہمیں ان مشکلات سے نکالنے کے لیے کافی ہے۔۔
اسی طرح:
"لا حول ولا قوة الا بالله"
یہ دعا انسان کے اندر کے غرور کو بھی توڑتی ہے اور بے بسی کو بھی ختم کرتی ہے۔ کیونکہ انسان آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر چیز صرف اس کی طاقت سے ہو رہی۔ لیکن جب اس دعا کو پڑھتے رہیں تو ہمیں اس بات کا دیہان رہتا ہے کہ کوئی ہے جو ہم سے طاقتور ہے ۔۔۔
کئی مرتبہ ہم ہر چیز Control کرنا چاہتے ہیں۔ ہر Outcome ہمارے مطابق ہو۔ ہر Plan کامیاب ہو۔ لیکن زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔
وہاں یہ دعا انسان کو جھکنا سکھاتی ہے، اور یہی جھکاؤ کئی مرتبہ سکون کا باعث بنتی ہے۔
پھر ایک دعا ہے:
"رب إني مغلوب فانتصر"
یہ حضرت نوحؑ کی دعا تھی۔
ایک نبی بھی ایک مقام پر یہ پکار رہے ہیں: "اے میرے رب! میں مغلوب ہو چکا ہوں۔"
یہ دعا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تھک جانا کمزوری نہیں۔ مدد مانگنا کمزوری نہیں۔ اور ہر وقت مضبوط نظر آنا بھی ضروری نہیں۔ آج کے دور میں کئی لوگ خاموشی سے ذہنی جنگیں لڑ رہے ہیں۔
Business Pressure،
Family Expectations،
Financial Stress،
Career Fear…
لیکن باہر سے سب Normal دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اندر وہ شاید صرف ایک سہارے کے محتاج ہوتے ہیں۔
اسی لیے بعض دعائیں انسان کو صرف دین سے نہیں جوڑتیں… بلکہ انسان کو خود اپنے آپ سے بھی دوبارہ جوڑ دیتی ہیں۔
ایک دعا ہے:
"رب إني لما أنزلت إلي من خير فقير"
یہ حضرت موسیٰؑ کی وہ دعا ہے جو انہوں نے تنہائی، بے سروسامانی اور بے یقینی کے عالم میں مانگی تھی۔
یہ دعا انسان کو عاجزی سکھاتی ہے۔
یہ یاد دلاتی ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ بن جائے، وہ ہر خیر، ہر آسانی، ہر راستے اور ہر سہولت کے لیے اپنے رب کا محتاج رہتا ہے۔
آج کے دور میں بھی کئی لوگ ایسے مرحلوں سے گزرتے ہیں جہاں انہیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ کبھی مالی دباؤ، کبھی نوکری کی پریشانی، کبھی کاروبار کی مشکلات، اور کبھی اندر کی خالی پن۔
وہاں یہ دعا انسان کے اندر امید جگاتی ہے کہ اللہ کی طرف سے آنے والی ایک خیر پوری زندگی بدل سکتی ہے۔
اسی طرح ایک دعا ہے:
"اللهم يسر ولا تعسر وتمم بالخير"
یعنی:
"اے اللہ! آسانی فرما، مشکل پیدا نہ فرما، اور انجام خیر کے ساتھ مکمل فرما۔"
انسان کو صرف بڑے معجزوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ روزمرہ زندگی میں آسانی بھی اللہ سے مانگنی چاہیے۔کیونکہ بعض اوقات انسان کو سب سے زیادہ ضرورت کسی بڑے انقلاب کی نہیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی آسانیوں کی ہوتی ہے۔
ایک صحیح فیصلہ،
ایک بہتر موقع،
ایک اچھا انجام،
یا صرف ذہنی سکون۔
اور پھر ایک دعا ہے:
"ولسوف يعطيك ربك فترضى"
یہ مکمل آیت امید کا ایک عجیب دروازہ کھولتی ہے۔
کئی مرتبہ انسان زندگی میں کچھ چیزیں کھو دیتا ہے۔
کچھ خواب پورے نہیں ہوتے۔
کچھ لوگ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔
کچھ منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں۔
لیکن یہ آیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی عطا صرف آج تک محدود نہیں۔ کبھی کبھی کچھ چیزیں دیر سے ملتی ہیں، لیکن اتنی خوبصورت شکل میں ملتی ہیں کہ انسان واقعی راضی ہو جاتا ہے۔
"إن معي ربي سيهدين"
یہ وہ الفاظ ہیں جو حضرت موسیٰؑ نے اس وقت کہے جب آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون۔ ظاہر میں راستہ بند تھا۔ لیکن یقین ابھی باقی تھا۔
آج بھی کئی لوگ ایسے مرحلوں سے گزر رہے ہیں جہاں انہیں آگے راستہ نظر نہیں آتا۔ کسی کا Career رکا ہوا ہے۔ کسی کا کاروبار مشکل میں ہے۔ کسی کا ذہن مسلسل پریشان ہے۔ اور کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ زندگی کس طرف جا رہی ہے۔
ایسے وقت میں بعض اوقات انسان کو پورا نقشہ نہیں چاہیے ہوتا… صرف اگلا قدم اٹھانے جتنا یقین چاہیے ہوتا ہے۔اور وہاں یہ دعا سپورٹ بنتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دعا صرف الفاظ دہرانے کا نام نہیں۔
اگر انسان دعا مانگ رہا ہے، لیکن ظلم بھی کر رہا ہے، بے ترتیبی میں بھی رہ رہا ہے، حقوق بھی ضائع کر رہا ہے، اور عمل سے بھی دور ہے، تو پھر زندگی میں توازن پیدا نہیں ہوتا۔ دعا کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے تب جاکر دعا پوری پاور کے ساتھ آپ کا ساتھ دیتی ہے۔
اسی لیے میں ہمیشہ یہ محسوس کرتا ہوں کہ تعلق مع اللہ اور Proper Management… دونوں مل جائیں تو انسان زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دعا اور رب سے مضبوط تعلق یہ دل کو سنبھالتی ہے، جبکہ مینجمنٹ زندگی کو۔
اور شاید یہی Balance آج کے دور کا سب سے بڑا Challenge بھی ہے۔ ہمیں صرف Motivational Quotes نہیں چاہئیں… ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں انسان روحانی طور پر بھی مضبوط ہو اور عملی طور پر بھی منظم ہو۔ زندگی میں دونوں کو ساتھ رکھنا ضروری ہے۔
دعا بھی۔ عمل بھی۔ یقین بھی۔ اور مینجمنٹ بھی۔
ان صفات کے پالینے کے بعد شاید انسان صرف زندہ نہیں رہتا بلکہ سکون کے ساتھ جینا بھی سیکھ لیتا ہے۔
اعجاز اللہ خان
۔
۔
۔
#Dua #IslamicReminder #MentalPeace #Hope #SelfImprovement #FinanceManagement #Mindset #Productivity #UrduColumn #SpiritualGrowth #StressManagement #LifeLessons #Entrepreneurship #PersonalGrowth #اعجاز_اللہ_خان